
04-09-2008, 04:53 PM
|
| ๒αภภєd | |
Join Date: Aug 2007 Location: DUN!YA MAY NAH! HUM D!LON MAY REHTAY HA!N
Posts: 10,042
Country: Thanks: 1
Thanked 24 Times in 24 Posts
Rep Power: 11 | |
غزل تمہاری آنکھیں میں ڈوب جاؤں تمہاری چاہت میرا سہارا
اگر یہ چاہت ہی خود کشی ہے تو خود کشی بھی مجھے گوارا 
وہ گاؤں اپنا میں چھوڑ آیا سبھی رشتے میں توڑ آیا
کہاں سے آئیں صدائیں مجھ کو یہ آج کس نے مجھے پکارا 
پیام آنکھوں سے مل رہے ہیں سمندروں کے سفر میں اترو
تمہیں یہ الفت ہی راس کب ہے تمہیں تو غم سے ہے آشکارا 
یہ شام اتری تو جانے کیونکرمری نگاہیں چھلک پڑی ہیں
وہی سمندر وہی ستمگر ‘ وہ ہی فلک ہے وہ ہی ستارہ 
جدائی میں جھلس گئے ہیں جو خواب آنکھوں میں رکھ دئیےتھے
عزیز جاں تھا جو مجھ کو جانم‘ اسی نے لوٹا اسی نے مارا |