| Register | Members | Radio & TV | Games | Quran | Calendar | Search |
| General Discussions You may Discuss in this forum any topic that you like and which do not fit into other forums |
![]() |
| LinkBack | Thread Tools | Display Modes |
| ||||
| bhook ka muqabla you bhi kiya jata hai بھوک کا مقابلہ یوں بھی کیا جاتا ہے میں نے ایک کرنسی نوٹ اس کی جانب بڑھایا تو اس کی آنکھوں میں چمک لہرائی۔یہ چمک ایسی تھی جیسے کسی فاقہ زدہ کے سامنے اچانک مرغن کھانا رکھ دیا جائے۔ وہ کرنسی نوٹ پر جھپٹا اور اسے جیب میں ٹھونس لیا۔اب وہ اپنا راز مجھے بتانے پر آمادہ ہوچکا تھا۔۔ہم دونوں اندرون شہر سے گذرنے والے ایک گندے نالے کے کنارے بیٹھے تھے۔اس نالے سے اٹھتی ہوئی بساندھ اس تعفن سے بہر حال کم تھی جو شہر کے گلی کوچوں اور مکانوں میں رچ بس چکی تھی اور جسے کسی ائر فریشنر سے دور کیا جانااب ممکن نہیں رہا ۔اس نے دوسری جیب سے ۱۲ x ۱۲ انچ کا ایک چوکور رومال نکلا اور میری آنکھوں کے سامنے لہرایا۔ دیکھو صاحب! یہ ہے وہ رومال جو ہم استعمال کرتے ہیں۔اس دنیا میں صرف یہ رومال ہے جو ہمیں دکھوں سے نجات دلاتا ہے۔اس چھوٹی سی عمر میں اس کی سنجیدگی اور پختگی دیکھ کر میں حیرت زدہ تھا۔ اس نے نالے پر جھک کر ایک گہرا سانس لیا اور گندے پانی سے اٹھتی ناقابل برداشت سڑاند کو یوں سونگھا جیسے اس میں عطر گلاب کی لپٹیں اٹھ رہی ہوں۔اس کے بعد اس نے انہماک کے ساتھ رومال کو زمین پر پھیلایا اور پھر اس پر کمال مہارت اور صفائی سے صمد بانڈ کا لیپ کیا۔اس لیپ سے اٹھنے والی بو میں ایک ناگوار تیکھا پن تھا ،میں نے بے اختیار ناک بند کرلیا۔لیپ کرنے کے بعد اس نے رومال کے دو کونوں کو مرے ہوئے چوہوں کی طرح پکڑا اور لمبائی کے رخ گولائی میں لپیٹ دیا۔ رومال کی شکل ایک بڑے سائز کے سگار جیسی ہوگئی تو اس نے اسے ایک سانپ کی طرح لپیٹ کر پراٹھے جیسا پیڑا بنا لیا۔اس کے بعد اسے تھوڑا سا دبایا جس کے نتیجے میں اس کی سطح پرگدلے رنگ کا محلول ابھر آیا۔اسے دیکھ کر اس کی آنکھوں میں اشتہاکا کوندا لپکا۔ اس نے بے تابی سے جھک کر چند گہرے سانس لئے اوررومال کے پیڑے کو احتیاط سے ایک طرف رکھ دیا۔ صاحب!یہ میرے ان دوستوں کی امانت ہے جو ابھی تھوڑی دیر میں یہاں شغل میلہ کرنے کیلئے پہنچنے والے ہیں۔میں نے دیکھا کہ رومال سونگھنے کے بعد اس کی اعصاب زدگی ختم ہوگئی تھی اور اب وہ دنیا کا سب سے مطمئن انسان دکھائی دے رہا تھا۔وہ تھوڑی دیر تک اپنی پرسکون کیفیت سے لطف اندوز ہوتا رہا اور پھر گویا ہوا۔صاحب! قسم سے سواد آگیا۔ایک دو واریاں اور لگالوں گا تو میرے تین چار گھنٹے پار ہوجائیں گے۔ میں اس کے پیلے لیکن آسودہ چہرے پر نگاہیں جمائے بیٹھا تھا۔وہ ان سٹریٹ چلڈرن میں سے ایک تھا جن سے ایک بانجھ معاشرے نے زندگی کے تمام رنگ چھین لئے گئے تھے۔تھوڑی ہی دیر بعد اس کے ساتھی شغل میلہ کرنے کیلئے وہاں پہنچنے والے تھے ۔میرے اس دوست کے مطابق ان میں سے کسی کی عمر بھی پندرہ سال سے زیادہ نہ تھی۔دو ایک نے تو ابھی اپنی عمر کی پہلی دھائی بھی مکمل نہیں کی تھی۔یہ لوگ روزانہ شام کے وقت اس گندے نالے کے کنارے جمع ہوکر اس مہلک نشے کو اپنے جسم میں اتارتے تھے ۔ جو ان کی دانست میں محض ایک معصوم سی تفریح اور شغل میلہ تھا۔گندے نالے پر نشے کے ہلکورے لیتے ہوئے میرے اس ننھے دوست نے مجھے بتایا تھا کہ ان میں سے کسی کا بھی کوئی آگا تھا نہ پیچھا،گھر تھا نہ گھاٹ۔یہ سب وہ تھے جو زندگی کی اس عظیم یونیورسٹی کے ہونہار طالبعلم تھے ۔ وہ ٹھوکروں میں پلے تھے اور بھوکے رہ کر جینے کا ہنر سیکھ رہے تھے۔ جانتے ہو کہ اس چھوٹی سی عمر میں نشہ کرنے سے تم جوان ہونے سے پہلے ہی مرسکتے ہو؟میں نے اپنے تئیں ایک مصلح بن کر پوچھا۔میری بات سن کر وہ یوں ہنسا جیسے میں نے کوئی بے وقوفی کی بات کہہ دی ہو۔صاحب! تم پڑھے لکھے لگتے ہو۔مجھے پتاہے کہ تم جیسے پڑھے لکھے شہری بابو سوائے نصیحت کرنے کے اور کچھ بھی نہیں جانتے۔تم نے پوچھ ہی لیا ہے تو سنو!ہم تو پیدا ہی مرنے کیلئے ہوتے ہیں۔اگر نشہ کرکے نہ مریں گے تو بھوک سے مرجائیں گے۔بھوک سے نہ مریں گے تو کسی نہ کسی (گالی)کے ہاتھوں مارے جائیں گے۔جب ویسے بھی مرنا ہے تو ایسے ہی سہی۔ تم اتنی چھوٹی سی عمر میں بڑی بڑی باتیں کرتے ہو۔تم نے کبھی سکول کی شکل نہیں دیکھی لیکن دنیا کے بارے میں تمہارا علم اچھے خاصے پڑھے لکھوں سے زیادہ ہے پھر تم اتنی چھوٹی سی بات کیوں نہیں سمجھتے ہو کہ زندگی قدرت کا ایک انمول عطیہ ہے جو صرف ایک بار ملتا ہے۔اس کی حفاظت کرنا اور اسے کار آمد بنا نا تمہارے اپنے اختیار میں ہے۔تم چاہو تو قوت ارادی سے کام لے کر ایک صحت مند زندگی گذار سکتے ہو۔ اس پر اچانک ہنسی کا دورہ پڑا پھراس نے مجھے قابل ترس نگاہوں سے دیکھا اور پکے چہرے کے ساتھ کہنے لگا۔صاحب! تم نے مجھے جتنے پیسے دئیے تھے اس سے زیادہ باتیں میں تمہیں بتا چکا ہوں۔میں نے تمہیں اپنی اور اپنے دوستوں کی رام کہانی بھی سنادی ہے لیکن لگتا ہے کہ تمہاری سمجھ میں کچھ بھی نہیں آیا۔تم بھی اگر اس کالج کے پڑھے ہوتے جسے دنیا کہتے ہیں تو یوں میرے ساتھ مغز ماری نہ کرتے۔صاحب! مجھے تو ٹھیک سے پتا نہیں ہے لیکن تمہارے خیال میں اس وقت میری عمر کتنی ہوگی؟ یہی کوئی بارہ تیرہ سال۔اس کے چہرے پر وقت نہایت بے رحمی سے اپنے آثا ر چھوڑتا جارہا تھا۔جہاں معصومیت ہونی چاہیے تھی وہاں ایک طرح کا پکا پن اور کرختگی تھی۔ اس کے باوجود اس کی کمسنی عیاں تھی۔تمہیں پتا ہے کہ میں نے سب سے پہلے چرس کا کش کب لگایا تھا؟۔جب میں آٹھ سال کا تھا اور جب مجھے میرے نشئی باپ نے یہ کہہ کر مجھے گھر سے نکال دیا تھا کہ کما کر لاؤ گے تو اس گھر میں قدم رکھنا۔اس چھوٹی سی عمر میں بے گھر ہوا تو کس کس نے مجھ سے کیا کیا فائدہ اٹھایا ۔میں بتاؤں تو تم یقین نہیں کرو گے۔تم نے مجھے کہا تھا کہ میں دلدل میںاترچکا ہوں۔صرف میں ہی نہیں صاحب! اس ملک کے سو میں سے کچھ نہیں تو نوے بچے اس دلدل میں اتر چکے ہیں۔اگر ہم میں سے کسی نے اس میں سے نکلنے کی کوشش بھی کی تو اسے واپس دھکا دیدیا گیا۔ہمارے ساتھ ہوتا یہ ہے کہ جب ہم سے گھر چھن جاتا ہے تو بہت سے لوگ اپنے مطلب کیلئے پچکار کر ہمیں اپنے پاس بلاتے ہیں۔مجھے بھی انہوں نے بہلا پھسلا کر اپنے پاس بلایا اور چرس پر لگا دیا۔لیکن صاحب! چرس مہنگی بھی بہت ہے اور اس سے بھوک میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے۔اس لئے ہم سب بچے بانڈ کے اس نشے کو اپنا لیتے ہیں۔اسے خریدنے کیلئے لمبا ہاتھ نہیں مارنا پڑتا۔چھوٹی موٹی چوری چکاری سے کام چل جاتا ہے لیکن اصل وجہ یہ ہے کہ اس کا نشہ کرنے کے بعد چھ آٹھ گھنٹوںکیلئے بھوک کا احساس ختم ہوجاتا ہے۔اب تم خود ہی بتاؤ روڑی چگنے سے بھلا اتنی آمدن کہاں ہوتی ہے کہ بندہ پیٹ میں روٹیاں ٹھونستا رہے؟۔ہم نشہ کہاں کرتے ہیں ،ہم تو بھوک کو مارتے ہیں۔ لیکن تمہیں کوئی روکنے والا نہیںمیرا مطلب کوئی پولیس وغیرہ؟۔میری اس بات پر اس کے چہرے پر تمسخر اور زہر میں بجھی ہوئی مسکراہٹ نمودار ہوئی ۔صاحب! وہ دیکھو میرے دوست آرہے ہیں۔اب تم یہاں چلتے بنو۔میں نے دیکھا کہ دس بارہ لڑکوں کا ایک گروہ وہاں آرہا تھا۔ان کے کپڑے میلے اور پھٹے ہوئے تھے اور کسی ایک کے بھی پاؤں میں جوتی نہیں تھی۔ان کا ہر قدم موت کی جانب بڑھ رہا تھا اور انہیںواپس بلانے والا کوئی نہیں تھا۔ |
| Sponsored Links |
| |||
| Quote:
|
| ||||
| Quote:
__________________ ![]() |
| ||||
| Quote:
ur right ............ tahnx 4 comments |
![]() |
| Bookmarks |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| Thread Tools | |
| Display Modes | |
|
|
| These are the 70 most used thread tags
Tag Cloud
|
| (r) acne scars anti virus bahar beauty tips bhala clean technology dosti ke sms dosti sms dosti sms in hindi dosti sms in urdu eid sms english eid sms forumpk free urdu poetry friendship iz friendship poetry funny eid sms funny islamic sms funny poetry funny ramadan sms funny sms funny urdu poetry gama green it greetings & quotes happy eid hindi poetry funny hindi ramadan sms islamic sms islamic sms collection islamic sms in urdu jat latest / new eid sms latest/new islamic sms love & romantic sms love poetry love sms love sms2 love urdu poetry matka. mobi-number city details nazms new ramadan sms nice sms pakistani forum. play online games poems quotes poetry pos quran ramadan sms text messages romantic poetry romantic sms rut sad love potery sad urdu poetry savar search sharp aquos sms on dosti text messages ultra large ultra slim urdu dosti sms urdu eid sms urdu islamic sms urdu poetry urdu sms xs1 |
| These are the 100 most searched terms
Search Cloud
|
| 7 c's of communication amjad islam amjad cap result cplc currency rates desi mast download ringtones earn money earn money online eid sms forumpk forumpk.com free sms ghazal sms graves of prophets indian cricket league inspirational qoutes islamic wallpapers ketrina load shedding in pakistan mahandi mehndi designs mobile friendship mobile prices mobile ring tones mobile tones moviesmobile.net new funny sms orkut pakistan richest man pakistan's richest man richest man in pakistan richest man of pakistan richest pakistani ring tones ringtones sahih bukhari sahih bukhari in urdu sms hi sms sms.pk smspk smspk.com standard chartered standard chartered bank umaira ahmed wasi shah worldcall evdo www.kalpoint.com www.orkut.com www.smspk.com ... |
| Register | FAQ | Members List | Calendar | Search | Free SMS | Today's Posts | Mark Forums Read |