| آج رات سازِ درد نہ چھیڑ
دکھ سے بھرپور دن تمام ہوئے
اور کل کی خبر کسے معلوم ؟
دوش و فردا کی مٹ چکی ہے حدود
ہو نہ ہو اب سحر، کسے معلوم ؟
زندگی ہیچ ! لیکن آج کی رات
ایز دیت ہے ممکن آج کی رات
آج کی رات سازِ درد نہ چھیڑ
اب نہ دُہرا فسانہ ہائے الم
اپنی قسمت پہ سوگوار نہ ہو
فکرِ فردا اتار دے دل سے
عمر رفتہ پہ اشک بار نہ ہو
عہدِ غم کی حکایتیں مت پوچھ
ہو چکیں سب شکایتیں، مت پوچھ
آج کی رات سازِ درد نہ چھیڑ
فیض احمد فیض
__________________ Aye Rabba...tu hi meri jaan...tu hi jahaan...tu hi meri manzil...
...tere ishq mein main qurban..."ju ho gaya woh ho gaya ...
ju ho raha hai usko honay dien ... aur ju hoga acha hoga ...
believe in ALLAH n urself" |